خامشی سے چڑ اکرلے گی وہ میرے خواب
جسکو میں اپنے سپنوں میں دیکھا کرتا تھا
نیند میری رہی نہ چین بچا کہیں
جسکے چین کی فکر میں پریشاں رہا میں
امیدیں توڑ گئی دم تعبیریں رہی ادھوریں
جسکے لیئے میں نے دن رات کئے ایک
ہاں، ہے اب بھی کچھ باقی مگر
مجھ میں سمٹا اسکے لمس کا احساس
No comments:
Post a Comment