Friday, July 29, 2016

منوں مٹی

اب ہم کس سے اپنا حال دل بیاں کریں گے
وہ تو منوں مٹی تلے جا بیٹھے ہیں

  میرے راز ونیاز کا محافظ تھا وہ
آج وہ خود کا اک راز بن بیٹھا ہے

اب مجھ کو بھی یقیں سا ہو چلا ہے

یہ راز بھی اک مٹی کے لئے بناہے

No comments:

Post a Comment