Friday, July 29, 2016

قیمتی موتی

خامشی سے چڑ اکرلے گی وہ میرے خواب
جسکو میں اپنے سپنوں میں دیکھا کرتا تھا

نیند میری رہی نہ چین بچا کہیں
جسکے چین کی فکر میں پریشاں رہا میں

امیدیں توڑ گئی دم تعبیریں رہی ادھوریں
جسکے لیئے میں نے دن رات کئے ایک

ہاں، ہے اب بھی کچھ باقی مگر
مجھ میں سمٹا اسکے لمس کا احساس

منوں مٹی

اب ہم کس سے اپنا حال دل بیاں کریں گے
وہ تو منوں مٹی تلے جا بیٹھے ہیں

  میرے راز ونیاز کا محافظ تھا وہ
آج وہ خود کا اک راز بن بیٹھا ہے

اب مجھ کو بھی یقیں سا ہو چلا ہے

یہ راز بھی اک مٹی کے لئے بناہے